پیر. اگست 8th, 2022

چترال(بشیرحسین آزاد)جمعیت علمائے اسلام چترال یو سی 3کی مجلس عمو می کا دستوری اجلا س زیر صدارت مولانا غیرت الدین جامع مسجد دنین چترال ٹاؤن میں منعقد ہو اجس میں امیر جے یو آئی چترال 3مو لا نا فضل رحمت، جنرل سیکرٹری جے یو آئی چترال 3فضل الرحمن سمیت یو سی عاملہ و مجلس عمومی اراکین نے شرکت کی۔ اجلا س میں متفقہ قرار داد پا س کیا گیا جس میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کو ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ قرارد اد میں واضح کیا گیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے منتخب ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن حکومت کی طرف سے ملنے والے فنڈز کو مخصوص گروپ میں تقسیم کرکے عوامی سطح پر جمعیت علماء اسلام کی بدنامی کا باعث بن چکا ہے، ایم پی اے کو ملنے والا فنڈ جمعیت علماء اسلام اور چترال کے عوام کی ملکیت ہے جبکہ موجودہ ایم پی اے مولاناہدایت الرحمن اپنے مخصوص گروپ کو نوازنے کے چکر میں لوئر چترال بالخصوص چترال ٹاؤن کو اپنے دور میں مسلسل محروم رکھا جس کی ہم پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے قرار داد کے ذریعے صوبائی جماعت اسے فوری طور ایکشن لینے اور اصلاح احوال کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرار داد میں اس امر پر بھی سخت افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن اپنے ایک ذاتی دوست کو فائدہ پہنچانے کیلئے جغور گول میں 15لاکھ روپے ایک متنازعہ روڈ کے لئے مختص کرکے اپنی ناقص کارکردگی کے آخری دور میں اہلیان جغور اور جمعیت علمائے اسلام کو فساد میں دھکیلنے کیلئے گھناؤنا کردار ادا کر رہے ہیں جس سے باز رہنے کیلئے انہیں خبردار کیا جاتا ہے بصورت دیگر اگر اس وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا تو اسکی ذمہ داری ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن پر عائد ہوگی۔
جمعیت علماء اسلام یونین کونسل چترال تھری کے اجلاس میں منظور کئے گئے قرارداد کے ذریعے وفا قی حکومت سے اپیل کی گئی کہ چترال کا علا قہ پسماندہ ہونے کی وجہ سے پوری آبادی یو ٹیلیٹی اسٹور سے استفادہ کندگان ہیں مو بائل اور کمپیوٹر سسٹم کی وجہ سے اصل مستحقین محروم رہتے ہیں لہذا حکومت کی طرف سے ہر علا قے کے یوٹیلیٹی اسٹورز کو بھر پور کوٹہ دیا جا ئے اور مقامی باشندوں کی شنا خت کے لئے اقدامات کئے جا ئیں تا کہ حقدار کو آسا نی کے ساتھ اس کا حق ملے۔اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلا ت مو لا نا اسد محمود کی خد مت میں درخواست کر تے ہیں این ایچ اے روڈ توسیعی منصو بوں میں متاثرین کے تحفظات کو دور کر نے کے بعدتوسیعی کام شروع کیا جا ئے۔