بدھ. ستمبر 28th, 2022

چترال (چ،پ)چترال پولیس نے کسی بھی ممکنہ صورت میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لئے دوسرے اقدامات کے علاوہ غیر قانونی طور پر چترال میں داخل ہونے والے افغان باشندوں کیخلاف کاروائی میں تیزی لاتے ہوئے گزشتہ دو دنوں کے دوران خفیہ ایجنسی کی مدد سے اوسیاک، جنجریت اور خیرآباد میں چھ افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا جو کہ ارسون بارڈر سے چترال میں داخل ہوگئے تھے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال سونیہ شمروز خان نے میڈیا کو بتایا کہ غیر قانونی طور پر ضلعے میں داخل ہونے والے افغان باشندوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ان کو اپنے گھروں میں ٹھہرانے والے دونوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ گرفتار شدہ افغان باشندوں میں سید نبی، عجب خان،محمد ہاشم،شیرئے اور شیر احمد شامل ہیں جن کا تعلق صوبہ کنڑ کے ناڑے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد مقامی افراد کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔ ڈی پی او نے مقامی افراد کو متنبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی افراد کو اپنے گھروں میں جگہ دینے سے گریز کریں بصورت دیگر وہ بھی قانون کے شکنجے میں لائے جائیں گے۔ دریں اثناء
ارسون میں گزشتہ روز پولیس کی گشت پارٹی پر فائرنگ کے واقعے کی پیش رفت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ کی جارہی ہے جس کی تفصیلات جلد ہی میڈیا کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔