177

دارالامان چترال میں آسامیوں پر دیگر اضلاع سے لوگوں کو بھرتی کرنا زیادتی اور قابل مذمت ہے/قاری جمال عبدالناصر

چترال(چ، پ)جمعیت علماء اسلام ضلع لوئر چترال کے سنیئر نائب امیر مشہور ومعروف عالم دین قاری جمال عبدالناصر نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں چترال دار الامان کے لئے چترالی خواتین سے انٹرویو لینے اور قابل خواتین کی موجودگی کے باوجود دیگر ضلع سے ایک خاتون کی تعیناتی افسوس ناک ہے، اب مزید عہدوں کے لئے بھی دیگر اضلاع سے ہی تعیناتی کا قوی امکان ہے اہالیان چترال سے زیادتی بالکل نا قابل قبول ہے۔میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے ایک اخباری بیان میں قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ چترال کے تعلیم یافتہ طبقے کیساتھ یہ نا انصافی شرمناک ہے لہذا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان اس عمل کا نوٹس لیتے فوری احکامات جاری کریں۔اُنہوں نے ایم پی اے چترال مولانا ہدایت الرحمان اور وزیراعلیٰ کے معاؤن خصوصی وزیر زادہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر اس زیادتی کے خاتمہ کے لئے آواز بلند کرکے اس کی روک تھام کرائیں تاکہ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اور خواتین کی حق تلفی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے دارالامان کا چترال میں قیام ایک اہم اقدام ہے لیکن اس ادارے کی آسامیوں پر دیگر اضلاع سے لوگوں کو لاکر بھرتی کرنا یہاں کے لوگوں کے ساتھ زیادتی اور انصاف کے برخلاف ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سنیٹر فلک ناز پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی اس زیادتی کی روک تھام کے لئے اپنا مثبت کردار اداکریں ورنہ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ چترال کے تعلیم یافتہ بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ برملا نا انصافی ہورہی ہے۔قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ کیا لکی مروت سے ایک ڈرائیور کا چترال کے ایک محکمہ میں مستقل پوسٹ پر بھرتی کرنا چترال کے بے روزگار نوجوانوں کی حق تلفی ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اب معلوم ہو رہا ہے کہ زیریں اضلا ع سے دوسرے کلاس فور بھی لانے کی کوشش جاری ہے، اگر کسی عہدے کے لئے چترال میں اہل افراد نہ ہوں تو کسی بھی علاقے سے کسی کو لانے پر ہمارا کوئی اعتراض نہیں لیکن قابل اور اہل افراد کے ہوتے ہوئے دیگر اضلاع سے لوگوں کو بھرتی کرنابالکل اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور نا قابل قبول ہے۔اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال سے بھی مطالبہ کیا کہ کہ ا نتظامی طور پر بھی اس بابت چترالی قوم کے اس اہم مسئلے سے صوبائی حکومت کو آگاہ کریں بصورت دیگر زبردست احتجاج کرنا ہمارا بنیادی حق ہے، پھر کوئی نہ کہے کہ ہمیں خبر نہ ہوئی۔اُنہوں نے کہا کہ پشاور میں تحفظ حقوق چترال کے ساتھی بھی اس ظلم کے خلاف بھر پور احتجاج کی تیاری کریں۔