224

شیشی واقعہ؛ گھروں میں مبینہ طور پر چوری کرنے والا پولیس کی گرفت سے دور،چوری کے الزامات کی انکوائری پولیس کی ذمہ داری ہے

دروش(نامہ نگار) شیشی میں مبینہ طور پر چوری کرنے پر لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم میں ریٹائرڈ صوبیدار امیر فیاض کو پولیس نے فوری طور گرفتارتو کر لیا گیا مگر گاؤں میں گھروں میں نقب زنی کرنے والے مبینہ چور کیخلاف ابھی تک پولیس کی طرف سے کوئی کاروائی سامنے نہیں آئی ہے جسکی وجہ سے مبینہ چوراس وقت مظلوم بن کر سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا میں ویڈیو وائرل ہونے پر تمام تر ہمدردیاں مبینہ چوری کے ملزم کی طرف ہو گئیں جبکہ گھروں میں مبینہ چوری کرنے کا عادی مجرم سوشل میڈیا میں مکمل طور معصوم بن گیا اور اسوقت تک کسی بھی قسم کے قانونی کاروائی سے بچا ہوا ہے۔ اس حوالے سے شیشی کے مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ لڑکا اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ اس دیہاتی علاقے میں چوری کی وارداتیں کر چکا ہے، وقوعہ کے روز اس نے چوری کی وارداتیں کی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ مذکورہ لڑکا اپنے کم عمر ہونے کا فائدہ اٹھاکر لوگوں کے گھروں میں جو بھی چیز سامنے آئے اس پر ہاتھ صاف کرتا تھا، کئی بار اس کو تنبیہ بھی کیا جاتا رہا مگر مبینہ طور پر یہ لڑکا چوری کے اپنی عادتوں باز نہیں آیا۔وقوعہ کے روز بھی مقامی پن چکی سے گندم کی بوری چراتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا جسکی ویڈیو بھی سوشل میڈیا میں آچکی ہے۔ بعدازاں شیشی کے نواحی گاؤں حضور بیکاندہ میں بھی مبینہ طور پر چوری کرتے ہوئے مقامی لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ صوبیدار امیر فیاض کے ہاتھ لگنے سے پہلے ہی نے مذکورہ لڑکے نے مقامی لوگوں کے سامنے اپنی چوری کے جرائم کا اعتراف کیا جب کہ اسی روز اس لڑکے کو گندم کی بوری چوری کرتے ہوئے پکڑا گیامگر تشدد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس لڑکے کے جرائم نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ دروش پولیس نے تشدد کا شکار بننے والے لڑکے مسمی حبیب الرحمن ولد رحمت کریم سکنہ شاہی نور شیشی کوہ کی درخواست پر امیر فیاض پر مقدمہ درج کیا ہے تاہم ایف آئی آر میں سوشل میڈیا میں وائرل ہونے والے ویڈیو کا کوئی تذکرہ نہیں۔اس حوالے سے ایک اور ویڈیو بھی سوشل میڈیا میں سامنے آیا ہے جس میں مقامی لوگوں نے مبینہ چور کو پکڑ ا ہوا ہے اور بتا رہے ہیں کہ یہ لڑکا سیمنٹ، گندم اور دیگر اشیا ء کی چوری میں ملوث ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وقوعہ کے روز صوبیدارا میر فیاض نے بعد از وقوعہ مذکورہ لڑکے کو شیشی پل میں موجود پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا جنہوں نے اسے دروش تھانے منتقل کیا تھا۔اس حوالے سے دروش کے ایس ایچ او عبدالکریم شاہ نے چترال پوسٹ سے ٹیلی فون پر چترال پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مذکورہ لڑکے کی باضابطہ گرفتاری یا اس کے خلاف کسی قسم کے دعویداری کی تردید کیا تاہم کہا کہ مذکورہ لڑکا کم عمر ہے، اسکے خلاف کوئی دعویداری بھی نہیں اسلئے کوئی باضابطہ ایف آئی آٓر درج نہیں ہوئی تاہم صوبیدار امیر فیاض کے خلاف درج ایف آئی آر میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ مذکورہ لڑکے پر صوبیدار امیر فیاض نے چوری کے الزامات لگائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چوری کے حوالے سے ان الزامات کی مقامی لوگ تصدیق کر رہے ہیں اور ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں مذکورہ لڑکے کو چوری شدہ گندم کی بوری کے ساتھ پکڑا گیا ہے، اگر ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کے خلاف کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی تو اس سے دیگر سماج دشمن عناصر شہ پکڑ کر دیدہ دلیری کیساتھ گھروں اور دکانوں میں چوری کی وارداتیں کرینگے اور یہ عناصر معاشرے کیلئے ناسور بنیں گے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں قانونی تقاضے پورے کئے جائیں اور اس واقعے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جائے اور چوری کے واقعات میں ملوث لڑکے کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ کم عمری کو جواز بنا کر ملزم کو چھوٹ دینے اسے جرائم کے حوالے سے مزید حوصلہ دینے کے مترادف ہے۔