54

را ژوئے کھوت مستقل خطرہ بن چکا ہے،حکومت فوری طور پر نہر کی آر سی سی مرمت کرکے ممکنہ جانی اور مالی نقصانات کو روکے/اہلیان علاقہ

چترال(فخرعالم)چترال کی وادی کھوت میں واقع تاریخی اہمیت کی حامل نہر راژوئے حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے مقامی دیہات کیلئے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔کئی دہائیوں سے تورکھو کے کئی دیہات کی آبپاشی اور پینے کی ضروریات پورا کرنے والی ”راژوئے“ کا پانی حالیہ سالوں میں کئی بار ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے نیچے واقع آبادی میں گھس کر تباہی مچا دی ہے تاہم مقامی آبادی کے باربار مطالبے کے باوجود حکومت اس کچی نہر کی مرمت اور اسے آر سی سی بنانے میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب پچھلے مہینے رات کے وقت ملبہ گرنے کی وجہ سے راژوئے کے پانی کے بہاؤ کا رُخ نیچے واقع دورزچ اور شوچندور کی آبادی کی طرف مڑ گئی جس کی وجہ سے گھروں اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم مقامی آبادی کی رضاکارانہ کوششوں کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ راژوئے نہر کچا ہونے کی وجہ سے اس میں اکثر دراڑیں پڑتی ہیں اور پانی سیلابی ریلے کی صورت آبادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پانی زمین میں جذب ہونے کی وجہ سے بڑی مقدار میں زرعی زمین بھی دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے۔ پوچونگ کے گاؤں میں نہر کی بالائی حصے میں دراڑ پڑنے سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس سے نہر کا دوسراحصہ بھی منہدم ہونے کے قریب ہے۔ضلعی انتظامیہ اور نجی ادارے AKAH کے سروے نے راژوئے سے ملحقہ پوچُونک، شرستُون، داغار، ہونکوٹ، لنگر، لوگار، موڑدور، دورزچ، گول، اونزک اور دوسرے دیہات کو انتہائی خطرے کی زد میں قرار دیا ہے تاہم مقامی آبادی کے پُرزور مطالبے کے باوجود حکومت نے اب تک اس جانب کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ ہمارا گھر اور زمینیں نہر سے متصل ہیں اور انہیں ہر وقت کسی ناخوشگوار حادثے کا خطرہ رہتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے معاؤنِ خصوصی وزیر زادہ اور ضلعی انتظامیہ سے اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کے درخواست کی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انکا کہنا تھا نہر سے متصل علاقے ممکنہ سیلابی ریلے اور دلدل کی وجہ سے آبادی کیلئے غیر موزوں ہوچکے ہیں۔ خطرے کی وجہ سے نہر سے ملحقہ کئی گھرانوں کو ہر رات نقل مکانی کرکے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا ہے۔ ایک اور مقامی رہائشی، جنکا بھائی کچھ سال قبل نہر کے اردگر احتیاطی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے راژوئے میں گر کر جان بحق ہوا، کا کہنا تھا کہ پہاڑی ڈھلوان سے گزرتی نہر میں کسی بھی وقت چھوٹی سے دراڑ پڑنے یا ملبہ گرنے سے پانی نیچے واقع دیہات کا مکمل صفایا کر سکتی ہے لیکن حکومتی مشینری کو اس خطرے کا اب تک احساس نہیں ہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ، سیاسی قائدین اور علاقے میں فعال این جی اوز سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی سنگین حادثے سے پیشتر اس خطرے کا تدارک کرکے ممکنہ جانی اور مال نقصان کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔