121

محکمہ صحت کے سو سے زائد ملازمین کو پچھلے سات مہینوں سے تنخواہیں کی ادائیگی نہیں ہوئی،ملازمین کا احتجاج

چترال(گل حماد فاروقی) محکمہ صحت کے ایک سو سے زائد کلاس فور ملازمین نے گزشتہ سات ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج شروع کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال کے دفتر میں احتجاجی دھرنا دیا ہے اور علامتی بھوک ہڑتال شروع کیا ہے۔ ان ملازمین میں خواتین بھی شامل ہیں۔
ان ملازمین کا کہنا ہے کہ ہمیں دسمبر 2019 میں کلاس فور کی آسامیوں پر بھرتی کیا گیا،جن کا باقاعدہ اخبارمیں اشتہار بھی آیا تھا اور ٹیسٹ انٹرویو کے بعدہمیں سرکاری سول ڈسپنسریوں وغیرہ میں بھیج دیا گیا، اس وقت سے ہم باقاعدہ ڈیوٹی کررہے ہیں مگر ابھی تک ہمیں تنخواہیں نہیں ملی۔ان مظاہرین میں بیٹھے ہوئے شجا ع الدین نے میڈیا کو بتایا کہ وہ 12 دسمبر 2019 کو بھرتی ہوئے، ۸ مہینے گزر گئے مگر ابھی تک ہمیں تنخواہیں نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ جب ان آسامیوں کیلئے اخبار میں اشتہار آیا تھا ہم نے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو میں شامل ہوئے اور ہمارا ڈومیسائل بھی چترال کا ہے یہ ہمارا حق ہے۔
محب اللہ بھی درجہ چہارم ملازم ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے عملہ نے کرونا وائرس کے دوران قرنطینہ مراکز میں بھی ڈیوٹی دی ہیں۔ ہم ایم پی اے مولوی ہدا یت الرحمان سے بھی ملے اور ان سے ملاقات کی انہوں نے یقین دہانی کرائی مگر ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سٹاف میں بعض عملہ کو کرونا بھی لگ گیا۔بی بی ہاجرہ مڈ وائف بھرتی ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے چھوٹے بچے بھی ساتھ لیکر ڈیوٹی کررہے ہیں مگر ابھی تک تنخواہ نہیں ملی۔ میڈیا کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے دیگر ملازمین فداء الرحمن، محمد شاکر، بی بی حاجرہ و دیگر نے کہا کہ موجود ہ حالات میں ہماری مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت ہمارے حال پر رحم کرے اور فوری طور پر ہماری تنخواہیں ادا کی جائیں۔
اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ حیدر الملک سے معلومات حاصل کی جس پر انکا کہنا تھا کہ یہ بھرتیاں دسمبر 2019 کو ہوئی تھی جس پر رکن صوبائی اسمبلی کے رکن اور سیاسی حلقوں نے اعتراض کیا تھا اور سیکرٹری ہیلتھ کو درخواست دی جس پر محکمہ صحت نے ڈائریکٹریٹ جنرل صحت خیبر پختونخواکے دفتر سے ایک تحریری ہدایت نامہ کے مطابق ڈی ایچ او لوئیر دیر اور اپر دیر کے نگرانی میں انکوائری شروع ہوئی جس پر ان بھرتیوں کو معطل کیا گیا جس کا نقل میں نے تمام ہیلتھ یونٹ کو بھیجا تھا کہ فی الحال یہ لوگ ڈیوٹی نہ کریں تاکہ بعد میں ان کو مشکلات کا سامنا نہ ہوا۔ اس میں 105 خالی آسامیوں پر 115 لوگ بھرتی کئے گئے تھے جس میں جن لوگوں نے ڈسپنسری کیلئے زمین دی تھی، مرحوم ملازمین کے بیٹوں کا کوٹہ، اقلیتی اور معذور اشخاص کے کوٹہ کا بھی خیال نہیں رکھا گیا جس میں دیگر اضلاع مردان سے بھی بھرتی ہوئے ہیں جس پر محکمہ صحت نے کاروائی کی۔ ان 105 میں سب غلط تو نہیں ہوسکتے،جن کو جائز طریقے سے بھرتی کیا گیا اور جن کی تعیناتی جہاں ہوچکی ہے اور جو ملازمین اپنے تعیناتی کی جگہ میں ڈیوٹی کررہے ہیں وہ جائز ہے مگر بعض لوگ دوسرے جگہوں میں جاکر جوائن کیا ہے جو غلط ہے۔ اب انکوائری رپورٹ آچکی ہے تو یہ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے اختیار میں ہے کہ وہ اس پر کیا فیصلہ دیتے ہیں۔