111

ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں ڈائلاسز مشینیں عرصہ دراز سے خراب، عوام سراپا احتجاج

چترال(محکم الدین)چترال میں بڑی تعداد میں گردوں کے مریضوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی قائدین اور سماجی تنظیمات کے نمائندوں نے منگل کے روز ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کے احاطے میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجی مظاہرے سے سابق صوبائی وزیر و صدر پی پی پی سلیم خان، راہنماء مسلم لیگ ن محمد کوثر ایڈوکیٹ، جے آئی یوتھ کے صدر وجیہ الدین، سماجی کارکن حسین احمد و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوام کو اعلی طبی سہولیات فراہم کرنے کا دعوی کرتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ڈائیلاسز مشینین خراب ہیں جن پر چھ سات لاکھ روپے خرچ کرنے پر یہ فعال ہو سکتے ہیں، مگر افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک سات لاکھ روپے خرچ کرکے اسے ٹھیک کرکے مریضوں کو سہولت دینے کی بجائے انہیں چترال سے طویل سفر کرکے پشاور جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال جیسے پسماندہ اور دورافتادہ علاقے میں اکثر مریض ایسے ہیں جو اضافی سفری اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اس حکومت نے جتنے بھی دعوے کئے وہ سب جھوٹ ثابت ہوئے ہیں، اس پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے بے یقینی کا شکار ہیں، عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا اور بے روزگاری و معاشی بدحالی نے لوگوں کو خود کشی پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کو کرپٹ کہنے والا عمران خان خود کرپشن اور اقربا ء پروری میں دھنس چکا ہے۔ مقررین نے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہاکہ اس دوران اگر ڈائلاسز مشینین درست نہیں کئے گئے تو بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال اور ڈی ایچ او کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں آفیسران کو چترال کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، صرف اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ قبل ازیں مظاہرین نے چترال بازار میں احتجاجی ریلی نکالی اور وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان، منسٹر ہیلتھ، ڈی ایچ او کے خلاف زبردست نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ایک ہفتے کے اندر مسئلہ کرنے اور ڈائیلاسز کے مریضوں کو فوری طور پر ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔