279

کوغذی سے تعلق رکھنے والا نوجوان اتفاقی گولی کا نشانہ بن کر جان بحق، آبائی علاقے میں سپردخاک کردیا گیا

چترال(نامہ نگار)کوغذی سے تعلق رکھنے والا نوجوان یحییٰ خان ولد دینارمبینہ طور پر اتفاقی گولی لگنے سے زخمی ہو کر تین دن چترال ہسپتال میں زیر علاج  رہنے کے بعد بالآخر زخمون کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے۔ تفصیلات کے مطابق یحییٰ خان اپرچترال کے دورافتادہ وادی کھوت میں مزدوری کی غرض سے گیا ہوا تھا جہاں رات کے وقت کمرے میں گولی چلنے سے شدید زخمی ہوا، انہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال منتقل کیاگیا جہاں پرتین دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد آج اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس حوالے سے تھانہ تورکہو پولیس نے چترال پوسٹ کو بتایا کہ یہ واقعہ 8مئی بروز جمعہ بعد افطاری وقوع پذیر ہوا۔ ایک ہی علاقے سے تعلق رکھنے والے یہ چند افراد کھوت کالج میں رہائش پذیر تھے، اس روز ان کا ایک رشتہ دار شاہ جلال الدین ولدرفیق الدین سکنہ کوغذی انسے ملنے آیاہوا تھا، افطاری کے بعد یہ لو گ کمرے میں بیٹھے تھے کہ شاہ جلال الدین کے پاس موجود پستول سے اتفاقاً فائر ہوا اور گولی متوفی یحییٰ خان کے سینے میں لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق جلال الدین وہاں پر ٹھیکیدار کے ساتھ کوئی مزدور نہیں بلکہ یہ سرکاری ادارے کا ملازم ہے۔ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر زیر علت نمبر 26زیر دفعات 337-Iاور 15AAدرج کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں پولیس نے بتایا کہ کھوت میں تعمیر ہونے والے گرین گودام کے ٹھیکیدار عباس نے کام کے لئے لیبر یہاں پر لایا ہے، ان میں کچھ لوگ غیر چترالی بھی ہیں تاہم وقوعہ میں کوئی غیر چترالی ملوث نہیں اور نہ ہی غیر چترال اور چترالی مزدور ایک جگہے میں مقیم ہیں بلکہ انکی رہائش بھی الگ الگ ہے۔
کھوت میں موجود غیر مقامی مزدوروں کے حوالے سے مقامی لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس ان لوگوں کے حوالے سے نرم گوشہ رکھا ہوا ہے، پہلے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بغیر کورونا ٹیسٹ یا قرنطینہ میں رکھے یہاں کھوت پہنچنے دیا گیااور یہاں وادی کے اندر بھی انکی موجودگی پر نظر نہیں رکھا جارہا ہے۔ مقامی لوگوں کا موقف ہے کہ ان غیر مقامی لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے علاقے کے پر امن ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ مقامی لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ ایک پرامن علاقے میں پستول سمیت بندہ کس طرح پہنچ سکا۔