82

آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کا قیام ایک مستحسن اقدام/اداریہ


طویل انتظار کے بعد بالآخر لوکل / ریجنل اخبارات کے ذمہ داروں نے ایک اہم اور مستحسن قدم اٹھاتے ہوئے ملکی سطح پرریجنل اخبارات کی ایک نمائندہ تنظیم کی بنیاد رکھ دی ہے،آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی (APRNS) کے نام سے اس تنظیم کے قیام کے پیچھے سنیئر اور معروف صحافی جناب غلام مرتضیٰ جٹ صاحب کی شبانہ روزمحنت، کوششیں اور اخلاص کار فرما ہیں اور انہی کوششوں کے نتیجے میں آج پاکستان بھر کے لوکل اور ریجنل اخبارات کو ایک ایسا پلیٹ فارم میسر آگیا ہے جہاں وہ اپنے باہمی مسائل اور مشکلات کا ذکر کرسکیں، مشاورت کر پائیں اور سب سے بڑھ کر لوکل/ یجنل اخبارات کے مفادات کے تحفظ اور حقوق کے حصول کے لئے منظم جدوجہد کر سکیں، اے پی آر این ایس کا قیام لوکل/ ریجنل اخبارات کے لئے ایک نعمت خداوندی سے ہرگز کم نہیں۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو گراؤنڈ میں فرنٹ لائن حقیقی صحافیوں کا تعلق لوکل / ریجنل اخبارات کے ساتھ ہے، لوکل / ریجنل اخبارات نے صحافت کے پیشے کو دوام بخشا ہوا ہے، یہ کارکن صحافیوں کے ادارے ہیں اور یہ صحافی ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں یاپر تعیش ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر کام نہیں کرتے، ریجنل اخبارات کے ساتھ منسلک صحافی حکومتی مراعات یا دیگر بڑے ملٹی نیشنل کمپنیوں سے فوائد حاصل کرکے کام نہیں کرتے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو تپتی دھوم ہو، یا کڑاکے کی سردی، بارش ہو یا آندھی۔۔اپنے پیشے سے محبت اور فرض سے لگن رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہیں، لوکل اور ریجنل اخبارات گراس روٹ لیول تک خبریں اور معلومات عوام تک پہنچانے اور عوامی مسائل، مشکلات سے ارباب اختیار کو آگاہ کرنے کا موثر ذریعہ ہیں، انکا کردار نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، صحافت خاصکر پرنٹ میڈیا میں لوکل ریجنل اخبارات کا کردار مرکزی نوعیت کا ہے مگر بدقسمتی سے لوکل /ریجنل اخبارات کو وہ حیثیت نہیں دیا گیا جو انکا حق ہے اور اسمیں سب سے بڑی رکاوٹ مخصوص مافیا ہیں جن کی کوشش رہی کہ لوکل /ریجنل اخبارات کو وہ مقام نہ ملے جسکا یہ ادارے حقدار ہیں۔لوکل /ریجنل اخبارات کو ”ڈمی اخبار“ قرار دینے کے خواب دیکھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ لوکل /ریجنل اخبارات ڈمی نہیں بلکہ یہ تو سب سے موثر ذرائع ابلاغ ہیں کیونکہ جہاں کسی شہر یا قصبے میں بڑے اخبارات کے 100پرچے آتے ہیں اسی شہر یا قصبے میں مقامی اخبارات کے کم از کم ایک ہزار پرچے نکلتے ہیں، اہم بات یہ کہ لوکل اخبارات انکے علاقوں تک بھی باآسانی پہنچتے ہیں جہاں پر بڑے اخبارات کی ایک /ایک پرچی بھی نہیں ملتی۔خاص کر پسماندہ، دورافتادہ اور دیہی علاقوں میں بڑے اخبارات کی دستیابی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر لوکل ریجنل اخبارات کا فوکس ہی ایسے علاقے ہوتے ہیں اور ان علاقوں میں پرچہ دستیاب ہوتا ہے، لوکل اور ریجنل اخبارات کے ساتھ لوگوں کی محبت ہوتی ہے کیونکہ یہ مقامی لوگوں کے ترجمان ہوتے ہیں، جہاں بڑے اخبارات میں کسی دیہی علاقے کی عام سی خبر چھپنا ناممکن سی بات ہے وہیں لوکل ریجنل اخبارات ان لوگوں کی آواز بن کر انکی خبروں کو اہمیت دیکر اعلیٰ سطح تک پہنچاتے ہیں۔اب مقامی سطح پر ڈمی کون ہوئے؟
جس طرح اندھیرے کے بعد روشنی ہوتی ہے اسی طرح اب لوکل /ریجنل اخبارات کے اچھے دن آنیوالے ہیں، اب مافیا کو اپنی ریشہ دوانیوں سے پیچھے ہٹنا پڑیگا، اب پرنٹ میڈیا کے حقیقی صحافیوں کو انکا حق اور مقام ملے گاکیونکہ لوکل/ریجنل اخبارات کے ذمہ داروں نے اپنی ایک نمائندہ تنظیم کا قیام عمل میں لایا ہے، اس چھتری تلے ہمیں ایک دوسرے کا دست و بازو بنکر کام کرنے کا موقع ملے گا، ہمارے حقوق کا تحفظ ہوگا، ہمارے کرداراور وجود کو تسلیم کیا جائے گا، یہ ایک نئی صبح ہے، ایک نئے سفر کا آغاز ہے،یہ سفر عزت، احترام، تکریم، خدمت اور عظمت کا ہے اور اسمیں کامیابی ہماری ہی ہے۔۔۔ تمام صحافی دوستوں کو مبارک ہو۔
اس عظیم کاوش اور کامیابی پر ادارہ چترال پوسٹ جناب غلام مرتضی جٹ صاحب کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتاہے۔