129

جنرل پیٹرولیمز کی جانب سے آٹوورکشاپس میں کام کرنے والے دیہاڑی داروں میں امدادی سامان تقسیم کئے گئے

چترال(گل حماد فاروقی) کورونا وائریس سے پوری دنیا متاثر ہوچکی ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والا دیہاڑی دار طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور مزدوری نہ ہونے کی وجہ سے انکی یومیہ آمدنی بھی بند ہوکر گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ حکومت نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مدد کی جائے گی مگراس میں اکثر حق دار لوگ رہ جاتے ہیں اور اثر و رسوخ والے لوگوں کو یہ امدادی سامان مل جاتی ہے۔ ایسے میں کچھ مخیر حضرات اور کاروباری ادارے بھی اس پسماندہ طبقے کی امداد کیلئے میدان میں اتر آئے ہیں۔ ملک میں موبل آئل کا کاروبار کرنے والے کمپنی جنر ل پٹرولیم نے دروش اور چترال کے آٹو ورکشاپس میں کام کرنے والے غریب شاگردوں اور روزمرہ دیہاڑی پر کام کرنے والے مستریوں میں امدادی سامان تقسیم کیا۔جنرل پٹرولیم کے نمائندے ارشاد احمد نے کہا کہ آٹو ورکشاپس لاک ڈاؤن کی وجہ سے کافی عرصے سے بند پڑے ہیں اور ان میں اکثر ایسے شاگرد کام کرتے ہیں جو روزانہ اجرت لیکر گھر کا چولہا جلاتے ہیں مگر مستری خانے بند ہونے کی وجہ سے ان کی گھر کا چولہا نہیں جلتا۔ تو ان غریب اور نادار لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے ادارے نے تین سو گھرانوں کیلئے امدادی سامان بھیجا ہے جن میں آٹا، دال، چینی، چاول وغیرہ شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سامان کافی نہیں ہے مگر یہ شروعات ہیں اور میں دوسرے کاروباری اداروں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی میدان میں آئیں اور وہ بھی مصیبت کے اس گھڑی میں ضرورت مند لوگوں کے ساتھ مدد کرے۔ جاوید احمد نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ہم نے ایک ہفتہ پہلے سروے کیا اور ان لوگوں کے نام لکھے جو صحیح معنوں میں حق دار ہیں تاکہ یہ امداد غلط ہاتھوں میں نہ جائے اور جن لوگوں کا گزارہ اچھا ہے ان کو بھی نہ ملے صرف ایسے لوگوں کے نام لکھے گئے جو زکوۃ کے حقدار ہیں یا واقعی میں نادار ہیں ان کے نام چن کر لسٹ بنایا گیا اور اس کے بعد ان کو یہ سامان پہنچایا گیا۔ ایک مستری خانے میں کام کرنے والے ایک غریب مستری بلال نے کہا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ہم گھروں میں محصور ہوچکے تھے کاروبار اور مزدوری نہ ہونے کی وجہ سے نوبت فاقوں تک پہنچ چکی تھی اب اس امدادی سامان کی وجہ سے چند دنوں کیلئے ہمارے گھروں میں بھی چولہا جلے گا اور ہمارے بچے بھی سکھ کا سانس لیں گے۔ مستری خانوں میں کام کرنے والے ان غریب مستریوں اور ان کے ہاں روزمرہ اجرت پر کام کرنے والے شاگرد اور مزدوروں نے جنرل پٹرولیم کا شکریہ ادا کیا کہ مصیبت کے اس گھڑی میں ان کو یاد کیا اور ان کے ساتھ مدد کیا۔