130

امدادی پیکج کی تقسیم کے نام پر انتظامیہ نے خود ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے،معاملے کی آزادنہ انکوائری کیجائے/مولانا عبدالاکبر چترالی

پشاور(گل حماد فاروقی)چترال سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے کئے گئے اقدامات اور قانون کی دھجیاں اڑاکر چترال کو کورونا کے مہلک وائرس کے خطرے سے دوچارکرنے والے کمشنر ملاکنڈ ریاض خان محسود اور ڈپٹی کمشنر چترال لویر نوید احمد کو فوری طور پر معطل کرکے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ ہفتے کے روز پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شاہد آفریدی کی طرف سے 20کلوگرام آٹا تقسیم کرنے کے لئے خواتین سمیت500افرادکو ایک چار دیواری کے اندر جمع کرکے ایک ہزار کے قریب مجمع اکھٹا کرکے کمشنر ملاکنڈ کی ایماء پر ضلعی انتظامیہ نے جس شرمناک حرکت کا ارتکاب کیا ہے، وہ انتہائی قابل مذمت ہے جس میں ضلعے میں نافذ دفعہ 144کی خود خلاف ورزی ہوئی اور یہ سارا ڈرامہ غریبوں کو آٹے کا تھیلہ تھماتے ہوئے میڈیا میں لانے کا شوق پورا کرنے کے لئے رچایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے متاثرین میں اب تک الخدمت فاؤنڈیشن سمیت کئی مخیر حضرات ہزاروں فوڈ پیکج تقسیم کرچکے ہیں لیکن کسی نے پبلسٹی کا بھونڈا شوق پورا نہیں کیا جبکہ اس دفعہ چترال کے یوٹیلیٹی اسٹوروں سے سستا آٹا اٹھواکر ضلعی انتظامیہ نے ایک اور غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ مولانا چترالی نے کہاکہ چترال کے عوام انتہائی قانون پسند ہیں اور حکومت کی طرف سے تشہیر کردہ کورونا وائرس کے خلاف اقدامات پر سوفیصد عمل کررہے ہیں اور مساجد میں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی لیکن کمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر چترال کے ڈرامے کے بعد ہر کوئی اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے اور کل جمعہ کے اجتماعات میں نمازیوں کی تعداد پھر معمول کے مطابق رہا جبکہ اس سے قبل چترال کی تاریخی شاہی مسجد میں صرف 25نمازی حاضر ہوئے تھے جہاں ہزاروں کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال، بونی اور دروش میں ان اجتماعات کے موقع پر سینکڑوں لوگ سوشل ڈسٹنسنگ کو بالائے طاق رکھ کر آپس میں گھل مل گئے اور اس مہلک وائرس کے پھیل جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس کاذمہ دار کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر خود ہی دفعہ 144کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے اور اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کردیاکہ عوام کے لئے قانون کچھ اور ہے اور خواص کے لئے کچھ اور۔ مولانا چترالی نے کہاکہ انہوں نے بیس دن تک چترال میں رہ کر عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے اور حکومتی احکامات پر عمل کرنے کی تاکید کرکے فضا کو ہموار کیا تھا لیکن کمشنر نے ان سب پر پانی پھیردیا ہے اور اگر چترال کے اندر کہیں بھی کورونا کا کیس سامنے آیا تو کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا کی عالمی وبا ء کے اس دور میں دنیا بھر میں غیر مسلم بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذات کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن صاحب بہادر کمشنر صاحب نے جمعتہ المبارک کی رات ڈی سی ہاؤس میں محفل موسیقی منعقد کرکے اپنے مہمان کا دل جیت لینے کی کوشش کی جبکہ اسی دوران زلزلہ آنے پر یہ لوگ بھاگ گئے۔ مولانا چترالی نے کہاکہ اگر صوبائی حکومت نے اپنے افسران کو بچانے کی کوشش کی اور ان کی اس سنگین غلطی پر ان کے خلاف کاروائی نہیں کی تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوگاکہ پی ٹی ا ٓئی حکومت کورونا کے خاتمے میں مخلص نہیں ہے اور سمجھوتے سے کام لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانونی مشیروں سے مشورہ کرکے کمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر چترال کیخلاف عدالت عالیہ میں کیس دائر کریں گے۔