129

جرمن حکومت کے مالی معاؤنت سے SRSPنے سنٹینئل ہائی سکول چترال میں سولرائزیشن منصوبہ/ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے افتتاح کیا

چترال(چ،پ)فیڈرل ریپبلک آف جرمنی کی مالی معاونت سے ایس آر ایس پی کے زیر اہتمام پاترپ فاونڈیشن کے تحت چترال کی سب سے قدیم درسگاہ سینٹینل ماڈل سکول چترال کی سولرائزیشن کی منصوبے کا افتتاح کیا گیا جس پر 4.3میلین روپے لاگت آئے گی۔ افتتاحی تقریب گذشتہ روز سکول میں منعقد ہوئی جس میں ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد، جرمن سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹریز میرین فینگیز اور لورینز سٹریٹمیٹر اور ایس آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹیو افیسر شہزادہ مسعود الملک،مختلف سرکاری اداروں کے سربراہان،عمائدین علاقہ نے کثیر تعداد میں شر کت کیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد نے سکول کی سولرائزیشن پراجیکٹ کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس کا تعلق بیک وقت تعلیم اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں سے ہے اور سکول کی بہتری میں اضافے کا باعث ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ چترال ایک منفرد تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی اہمیت کا حامل علاقہ ہے جہاں مثالی امن وامان موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹوارزم کے شعبے کو ترقی دینے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں اور جرمنی سمیت دیگر ممالک کے سیاحوں کو یہاں آنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے چترال کی ترقی میں ایس آر ایس پی کی کردار کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دے دیا۔ جرمن ایمبیسی کے فرسٹ سیکرٹری لورینز سٹریٹمیٹرنے کہاکہ اس سکول کی تاریخی حیثیت کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی جوکہ اس علاقے کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس قوم کے مستقبل ہیں اور یہ تعلیم کا شعبہ ہے جس کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہے اور طلباء کو چاہئے کہ وہ اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ سولرائزیشن کے نتیجے میں بچت کو سکول کی ترقی اور معیار کو بڑھانے پر خرچ کیا جائے گا۔ ایس آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹیو افیسر شہزادہ مسعود الملک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاترپ فاونڈیشن نے فیڈرل ریپبلک آف جرمنی کی مالی تعاؤن سے چترال میں گزشتہ کئی سالوں سے حکومت کی ترجیحات اور علاقے کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ارندو اور دمیل میں 56کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی اور 16سرکاری سکولوں کے عمارات کی مکمل طور پر بحالی کی اور ارندو میں بزنس سنٹر کی عمارت تعمیر کی جبکہ ارسون روڈ پر اب کام جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1920 کی دہائی سے یہ تاریخی سکول چترال کی ترقی میں نمایاں مقام کا حامل ہے اور علاقے کی سوشل انڈیکٹرز کی بہتری میں کردار ادا کی ہے۔ لائیولی ہڈ پروگرام کے تحت بھی جرمن حکومت کی مالی معاؤنت سے چترال کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام پایہ تکمیل کو پہنچ گئے جبکہ اس سکول کے لئے گراونڈ کی تعمیر میں بھی جرمنی کی مالی معاونت شامل رہی۔ شہزادہ مسعود الملک نے صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ شمالی وزیرستان سے لے کر بروغل تک کام کرنے میں صوبائی حکومت نے ایس آرایس پی کی استعداد کار کو بڑہانے میں مدد فراہم کی جبکہ سیکورٹی ایجنسیز نے مشکل حالات میں اس ادارے کو رہنمائی اور معاونت فراہم کی۔ اس سے قبل سینٹینل ماڈل سکول چترال کے وائس پرنسپل شاہد جلال نے کہاکہ یہ سکول اپنی تاریخی حیثیت اور محل وقوع کے اعتبار سے تعلیمی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بن چکا ہے اور یہاں سولرائزیشن کے ذریعے بجلی کی منقطع نہ ہونے والی سپلائی ضروری تھی۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر مختلف اداروں کے افسران، پاٹریپ کے پراجیکٹ منیجر خادم اللہ، ایس آر ایس پی کے پروگرام منیجر طارق احمد و دیگر بھی موجود تھے۔