107

خوبصورت وادی بروغل بنیادی سہولیات زندگی سے محروم علاقہ، مسائل کی آماجگاہ

چترال(گل حماد فاروقی) پاک افغان سرحد پر واخان کی پٹی سے متصل وادی بروغل اکیسویں صدی میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ میں واقع ہے۔ یہ وادی ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل ہے مگر یہاں کے مکین آج بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزاررہے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق اور سہولیات میسر نہیں۔ بروغل میں نہ تو سڑک ہے نہ بجلی، نہ سکول نہ ہسپتال، لوگ موبائل اور ٹیلیفون سے بھی نا بلد ہیں۔ بروغل جانے والے راستے میں بانگ نامی گاؤں سے آگے ایک مقام پر کسی منچلے نے لکھا ہے کہ”بندوں سے رابطہ منقطع اللہ سے رابطہ شروع“۔ یعنی آپ کا باقی لوگوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوجاتا ہے۔ بروغل میں جھونپڑی نما مکانات ہوتے ہیں جو بمشکل سولہ ضرب بارہ فٹ پر محیط ہوتا ہے جس میں تندور، باورچی خانہ، ڈرائینگ روم، مہمان خانہ، چولہا، اور سب کچھ ایک ہی جگہ موجود ہوتے ہیں۔ وادی بروغل سطح سمندر سے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی درخت نہیں اگتا اور آکسیجن بھی کم ہوتا ہے۔ یہاں اکثر اکتوبر میں بھی برف باری ہوتی ہے۔ ہمارے نمائندے نے وادی بروغل کے مختلف دیہات کا پیدل سفرکرکے وہاں دورہ کیا،لوگوں سے مل کر انکی حالت زار اور مسائل و مشکلات کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ بروغل وادی میں ابھی تک گندم کی فصل تیار نہیں ہوئی ہے۔

یہاں پر ’جو‘ بھی کاشت کی جاتی ہے جسے عام طو ر پر مال مویشیوں کے لئے ذخیرہ کرتے ہیں اور جب یہاں چار فٹ سے زیادہ برف باری ہوتی ہے تو ان کے مال مویشی گھروں کے اندر ہی رہتے ہیں، اس وقت یہ خشک گھاس اور خوراک اپنے جانوروں کو کھلاتے ہیں۔بروغل کے لوگ مال برداری اور سفر کیلئے زیادہ تر گھوڑا، یاک (جنگلی بیل) اور گدھا استعما ل کرتے ہیں۔ ضعیف العمر لوگ بالخصوص خواتین میں بعض ایسے خواتین بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک تارکولی سڑک، گاڑی، موبائل فون، ٹیلیفون اور چترال کا بازار بھی نہیں دیکھا ہے۔ یہ لوگ مال مویشی پالتے ہیں، اس کی دودھ سے بنے ہوئے اشیاء فروخت کرکے گزر بسر کررہے ہیں۔ یہ لوگ واخی زبان بول لیتے ہیں اور اکثر لوگ چترالی یعنی کھوار زبان بھی نہیں سمجھتے۔ یہاں اکثر اکتوبر میں برف باری شروع ہوتی ہے جو مارچ اپریل تک جاری رہتا ہے۔ غربت کا اندازہ ا س بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ زیادہ تر لوگ لکڑی بھی نہیں جلاسکتے ہیں کیونکہ چترال بازار سے لکڑی لانا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ مگر قدرت نے ان لوگوں کیلئے متبادل ایندھن کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ یہاں ایک خاص گھاس ہوتا ہے جسے جڑ اور مٹی سمیت زمین سے اکھاڑ کر خشک کرتے ہیں اور اسے سردیوں میں جلاتے ہیں مگر اس سے بہت سخت بدبو بھی نکلتی ہے۔ یہاں کے لوگ غربت کے باوجود نہایت مہمان نواز ہیں اور آنے والے سیاحوں، مہمانوں اور مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وادی بروغل کے لوگ وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی پاکستانی ہیں او ر کم از کم ان کیلئے سڑک کا بندوبست کیا جائے او ر ساتھ ہی ان کے بچوں کیلئے سکول اور کالج، ہسپتال بھی کھولے تاکہ یہاں کے لوگ بھی دیگر شہریوں کی طرح زندگی گزارے۔ یہاں کے لوگ جب فضاء میں گزرتے ہوئے کسی ہیلی کاپٹر یا جہاز کو دیکھتے ہیں تو ان کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔