آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا 77ویں یوم آزادی کے موقع پر آزادی پریڈ سے خطاب/خصوصی تحریر: مہوش حیات

ڈیجیٹل دہشت گردی کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا

اشتہارات


77ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب سے تاریخی خطاب کے آغاز میں انہوں نے عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حصول پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ،علامہ محمد اقبال کی قیادت اور برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کی بے لوث قربانیوں کا ثمر ہے۔
حال ہی میں فوج نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے، جس میں جنرل عاصم منیر نے خود خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کو انتشار پھیلانے اور مسلح افواج کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی طاقتیں پاکستان میں ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کی وجہ ہیں جنکا مقصد ریاستی اداروں اور پاکستان کے عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے عزمِ استحکام کے وژن کے تحت انسداد دہشت گردی کی سرگرمیوں کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کو صرف مایوسی کا سامنا ہوگا۔
سورہ الحجرات کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معلومات کی تحقیقات اور تصدیق کی اہمیت پر زور دیا تاکہ عوام کے درمیان خوف و ہراس نہ پھیل سکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئین اظہارِ رائے کی آزادی کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس میں آزادی اظہار کی واضح حدود بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا "دشمن قوتوں کے لیے یہ واضح کر دیں کہ چاہے ہمارے خلاف کتنے ہی پیچیدہ اور متنوع خطرات جمع ہو جائیں، ہم متحد اور پُرعزم ہیں۔ چاہے روایتی یا غیر روایتی، متحرک یا فعال، ہمارے خلاف جو بھی حربہ استعمال کیا جائے، ہمارا ردعمل سخت ہوگا اور ہم ضرور جواب دیں گے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آزادی مفت نہیں ملتی، اس کی قیمت بہت سے عظیم بیٹے اور بیٹیوں نے چکائی ہے، اور ہم ہمیشہ اس کے لیے تیار ہیں۔” آرمی چیف نے مزید کہا کہ مجھے پورا یقین اور اعتماد ہے کہ پاکستان کے عوام اور اس کی سیکیورٹی فورسز کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کسی کو بھی اس عظیم ملک پر بری نظر ڈالنے نہیں دیں گے،”
آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے مغربی پڑوسی کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم دہشت گرد گروپ ٹی ٹی پی کو اپنے دیرینہ اور برادرانہ ہمسایہ پاکستان کے مقابلے میں ترجیح نہ دیں۔آرمی چیف نے ٹی ٹی پی کو، جسے انہوں نے فتنہ الخوارج کہا، خیبر پختونخوا میں اپنی ریاست مخالف اور شریعت مخالف سرگرمیوں کے لیے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس گروپ نے صوبے میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے۔ پختونوں کی قربانیوں اور حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ چونکہ یہ دہشت گرد گروہ شریعت یا آئین پاکستان کو نہیں مانتے، اس لیے ہم بھی انہیں پاکستانی نہیں سمجھیں گے۔
بلوچستان جہاں پچھلے کچھ ہفتوں سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اور ریاست مخالف بیانیے تشکیل دیے جا رہے ہیں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جنرل منیر نے عزم ظاہر کیا کہ فوج، مرکز اور صوبائی حکومتیں بلوچ عوام کی سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ہمیشہ سے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر جو صوبے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں ملک کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انکا یہ واضح حوالہ بی وائی سی کے احتجاج کا تھا کیونکہ آئی ایس پی آر (ISPR) کی حالیہ پریس کانفرنس میں بی وائی سی کو "دہشت گرد تنظیموں اور مجرم مافیاز کی پراکسی” قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ تنظیم اسمگلروں اور مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلا رہی ہے۔
مزید برآں آرمی چیف نے سامعین کی توجہ کشمیریوں کی حالت زار کی طرف بھی دلائی، جن کی بھارتی جبر سے آزادی کی جدوجہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا
"ہم کشمیریوں کے ناقابلِ تسخیر حق خود ارادیت کے لیے ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں… اور کشمیریوں کے بہادر لوگوں کو اپنی مکمل سیاسی اور سفارتی حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔”
غزہ کے عوام کے خلاف جاری خوفناک نسل کشی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کے ضمیر پر ایک دھبہ ہے جسکی مخالفت پاکستان ہر عالمی فورم پر کرتا رہے گا۔
آرمی چیف نے چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ترکی جیسے دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
تقریب کے اختتام میں سورہ یوسف کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کیا اور کہا کہ مایوسی کفر ہے اور ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔ آپ اس ملک کا روشن مستقبل ہیں اور پاکستان اللہ کا انعام ہے جسے تاقیامت قائم رہنا ہے۔ اس تقریب میں کیڈٹس نے مارچ پاسٹ کیااور پرچم کشائی کی گئی جس میں قومی ترانہ گایا گیا۔آدھی رات کو 12ویں بلوچ رجمنٹ کی جانب سے قومی پرچم لہرایا گیا۔