126

جب سے چودھری رحمت علی نے اپنے پمفلٹ میں لکھا کہ ہم اپنے لیے الگ ملک بنانا چاہتے ہیں جس کا نام”پاکستان“ ہو گا تو ہندو ہم پر طنز کرنے لگے۔۔یہ پاک ہیں لہذا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔۔پاکستان پاک لوگوں کی سرزمین ہے یہ ہر لحاظ سے پاک ہونگے۔۔مخلص وفادار دیانتدار محنتی پاکباز ریاست کا وفادار ہونگے۔ان کی سرزمین دنیا والوں کے لیے مثال ہوگی۔وہ ترقی کریں گے ترقی کرتے جاینگے۔۔یہ بھپتیاں تھیں طنز تھے ان کا خیال تھا کہ ہم ویسے کھرے سچے تھوڑی ہیں ہم پاک سر زمین کے مکین ہونے کے قابل تھوڑی ہیں۔۔ہم اس سے وفادار نہیں ہو سکتے۔لیکن جب لے کے رہینگے پاکستان۔۔۔بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے بلند ہونے لگے تو اغیار سہم سے گئے اور آخر کو ہتھیار ڈال دیے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا لیکن پتہ نہیں ہندوؤں اور سکھوں،انگریزوں اور ہندوستان کا بٹوارہ نہ چاہنے والوں کی بھپتیوں میں صداقت تھی یا یہ ہماری آزمائش تھی کہ پاکیزہ اور مخلص لوگوں کو آسمان کھا گیا کہ زمین نگل گئی وہ کہیں غائب ہوگئے۔۔
ایے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
پھر اقتدار کی کشمکش پھر جاگیر بنانے کی دھن پھر دھن دولت سمیٹنے کی دوڑ پھر بدعنوانی کا طوفان۔۔۔۔اس نام پہ شک ہونے لگا کہ واقع پاکیزہ لوگوں کی سرزمین ہے۔۔اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام والا نعرہ درست تھا اور واقع اسلامی نصب العین ان لوگوں کی منزل تھی۔کرپشن سے پاک معاشرہ ان کا ایڈیل تھا۔ بالکل شک ہونے لگا۔وہ معاشرہ خواب ہی رہا۔لیکن اس پاکستان کے کونے کھدرے میں ایسے افراد موجود ہیں جو اس کی بقا کے لیے سر بسجود ہیں۔اس کی سرحدوں پر ایسے جوان مرد موجود ہیں جو بندوق تانے رات کو جاگتے ہیں یہ وہ افراد ہیں جو اس کے دارالحکومت کی کشادہ سڑکوں پر اپنی قیمتی کاریں نہیں دوڑاتیں جو اے سی لگے کمروں میں بیٹھ کر اس کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرتے جو اس کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹتے نہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو سارا دن کام کرکے اپنے بچوں کی روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے بچے عید کے کپڑوں کی آرزو میں جوان ہوتے ہیں لیکن ان کی قسمت میں کبھی نئے جوڑے نہیں آتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی بیٹیوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ ان کی جوانی کب آئی کب ڈھلی۔۔یہ وہ لوگ ہیں جو دارالعدل کی سیڑھیوں میں عمریں گنواتے ہیں یہ وہ لوگ جو ہسپتالوں کے باہر قطاروں میں کھڑے کھڑے مرجاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی قسمت میں مسکراہٹ نہیں ہوتی۔۔لیکن یہ لوگ اس سرزمین کی مٹی پہ طواف کرتے ہیں اس کی پکڈنڈیوں پہ کھلے آسمان تلے رات گزارتے ہیں لیکن اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں یہ اپنے بچوں کی قربانیاں دیتے ہیں لیکن اس بات پہ فخر کرتے ہیں یہی وہ افراد ہیں جو جب بھی موقع ملے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں ان کے نعروں میں خلوص ہوتا ہے۔۔ان کی زبان سے جب پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند ہوتا ہے تو وہ شبستان وجود کو ہلا دیتا ہے فلک میں شگاف کرتا ہے دشمن کو لرزہ براندام کر دیتا ہے۔لیکن یہ نعرہ سٹیج پہ آکے بلند بانگ دعوی کرنے والے کی زبان سے نکلے تو صدا بصحرا ہوتا ہے پاک سر زمین کی بقا کے لیے یہ نعرے بے کار ہیں۔۔ایک بندہ ہزار صعوبتیں جھیلنے کے باوجود اس سرزمین کے لیے زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے اسی نعرے کی بدولت پاک سر زمین زندہ و تابندہ ہے یہ اسکے اصل معمار ہیں۔۔اللہ اس پاک دھرتی کو تا قیامت سلامت رکھے۔۔۔۔پاکستان زندہ باد(۳۱ اگست